ہفتہ 3 اکتوبر 2026 - 21:11
مسجد صرف عبادت گاہ نہیں، ایمان و کردار سازی کا مرکز ہے

حوزہ/ مسجد صرف نماز کی ادائیگی کی جگہ نہیں بلکہ ایمان کی مضبوطی، قرآن و اہل بیت کی تعلیم، کردار سازی، نئی نسل کی تربیت، سماجی اتحاد اور حق و باطل کی پہچان کا اہم مرکز ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بیتول، مدھیہ پردیش میں مسجد حضرت مہدی علیہ السلام کی تعمیر نو کے موقع پر منعقدہ پروگرام میں مختلف علمائے کرام نے مسجد کی اہمیت، اس کے روحانی و سماجی کردار، نئی نسل کی تربیت اور شہداء کی عظمت پر روشنی ڈالی۔

گلبرگہ کے مولانا حافظ مرزا صادق علی بیگ اور کانپور میں مقیم مولانا شاہد امام باقری نے اپنے خطابات میں کہا کہ مسجد کی تعمیر کے ساتھ اسے آباد رکھنا اور اس کے حقیقی مقاصد کو عملی جامہ پہنانا بھی اہم ذمہ داری ہے۔

مسجد صرف عبادت گاہ نہیں، ایمان و کردار سازی کا مرکز ہے

مسجد بنانا ہی نہیں، اسے آباد رکھنا بھی ضروری

گلبرگہ کے مولانا حافظ مرزا صادق علی بیگ نے سورۂ توبہ کی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم نے مسجد کی تعمیر اور اسے آباد رکھنے سے متعلق متعدد اہم نکات بیان کیے ہیں۔ مسجد کی تعمیر کرنے والوں کے ساتھ ساتھ اس کی دیکھ بھال کرنے والے متولی کے لیے بھی مخصوص اوصاف اور ذمہ داریوں کا ہونا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ بعض اوقات ایسی مساجد بھی بنائی جا سکتی ہیں جن کا مقصد مسلمانوں میں تفرقہ یا اختلاف پیدا کرنا ہو؛ اس لیے صرف مسجد کی عمارت تعمیر کردینا کافی نہیں، بلکہ اس کے مقصد اور معاشرے پر اس کے اثرات کو بھی دیکھنا ضروری ہے۔

مسجد صرف عبادت گاہ نہیں، ایمان و کردار سازی کا مرکز ہے

مولانا حافظ مرزا صادق علی بیگ نے کہا کہ مسجد کی تعمیر یقیناً اللہ تعالیٰ کو پسندیدہ عمل ہے، تاہم اللہ کی راہ میں شہادت اور قربانی کا مقام بھی بہت بلند ہے۔

انہوں نے مسجد سے متعلق تین اہم مراحل کی طرف توجہ دلائی۔ پہلے مرحلے میں مسجد کی تعمیر، صفائی، حفاظت اور احترام شامل ہے۔ دوسرے مرحلے میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ مسجد کا مقصد کیا ہے اور وہاں آنے والوں کو اس سے کیا فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔ تیسرے مرحلے میں ان رکاوٹوں سے آگاہ رہنا ضروری ہے جن کے ذریعے انسان کو مسجد اور باجماعت نماز سے دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

مسجد صرف عبادت گاہ نہیں، ایمان و کردار سازی کا مرکز ہے

مسجد مزاحمت، شعور اور نئی نسل کی تربیت کا مرکز ہے: مولانا شاہد امام باقری

کانپور میں مقیم مولانا شاہد امام باقری نے مسجد کو ایمان، شعور، مزاحمت اور سماجی تربیت کا مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اہل ایمان میں استقامت اور حق کے لیے جدوجہد کا جذبہ کہاں سے پیدا ہوتا ہے؟ اس کی بنیاد ایمان اور عقیدے میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے باایمان اور نیک افراد کی تربیت کہاں ہوتی ہے؟ مسجد اس کا ایک اہم مرکز ہے۔ مسجد صرف عبادت گزار افراد تیار نہیں کرتی بلکہ ایسے لوگوں کی تربیت بھی کرتی ہے جو شعور، سماجی ذمہ داری اور حق کے لیے ثابت قدمی کا جذبہ رکھتے ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم سچائی کے راستے پر چلنے والے افراد اور شہید رہنماؤں کے مخلص پیروکاروں جیسی زندگی چاہتے ہیں تو اس تربیت میں مسجد کا اہم کردار ہے۔ مسجد ایسی جگہ ہونی چاہیے جہاں لوگوں کی دینی، تعلیمی اور سماجی ضروریات پر توجہ دی جائے۔

انہوں نے بیتول کی مسجد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں نماز کے ساتھ بچوں کی تربیت اور مثبت سرگرمیوں کے لیے مختلف پروگرام اور کھیل بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ دیگر مساجد میں بھی ایسی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے تاکہ مساجد نئی نسل کی بہتر تربیت کا مرکز بن سکیں۔

دس سال قبل رکھی گئی بنیاد، ایمان و تربیت کے مرکز کی ابتدا

پروگرام میں بتایا گیا کہ اس مسجد کی بنیاد دس سال قبل رکھی گئی تھی۔ یہ محض ایک عمارت کی بنیاد نہیں تھی بلکہ اللہ کی یاد، قرآن کریم کی تعلیم، پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کو عام کرنے، نماز قائم کرنے اور نئی نسل کی تربیت کے ایک مرکز کا آغاز تھا۔

قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے: «إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ»

ترجمہ: اللہ کی مسجدوں کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔

مقررین نے کہا کہ مسجد کی حقیقی آبادی صرف اس کی عمارت تعمیر کرنے تک محدود نہیں بلکہ دلوں کی اصلاح، کردار سازی اور آنے والی نسلوں کی صحیح تربیت ہی مسجد کی حقیقی آبادی ہے۔

مسجد صرف عبادت گاہ نہیں، ایمان و کردار سازی کا مرکز ہے

شہداء کی عظمت اور ان کی میراث کو زندہ رکھنے پر زور

پروگرام میں شہداء کی عظمت اور ان کے احترام پر بھی خصوصی روشنی ڈالی گئی۔ مقررین نے کہا کہ جو شخص اسلام اور حق کی حفاظت کے لیے اپنی جان قربان کرتا ہے، اس کا مقام اللہ تعالیٰ کے نزدیک بلند ہے۔

قرآن کریم کی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ شہداء کو مردہ نہ سمجھا جائے بلکہ وہ اپنے پروردگار کے پاس زندہ ہیں اور انہیں رزق دیا جاتا ہے۔ مقررین نے کہا کہ شہداء کی یاد تازہ رکھنا محض ایک رسم نہیں بلکہ ان کے پیغام، اقدار اور ذمہ داریوں کو آگے بڑھانے کا ذریعہ ہے۔

اس موقع پر ایران کے رہبر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کو بھی یاد کیا گیا اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ مقررین نے ان کی زندگی اور جدوجہد کو حق و انصاف کی حمایت سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانی دنیا بھر میں حق و انصاف کے حامیوں کے لیے ایک یادگار ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہادت کسی شخص کے مادی سفر کا اختتام نہیں بلکہ ایک فکر، پیغام اور ذمہ داری کو زندہ رکھنے کی علامت ہے۔ شہید کی حقیقی یاد یہ ہے کہ اس کے پیغام کو سمجھا جائے، اپنی ذمہ داریوں کو پہچانا جائے اور اس کی مثبت اقدار کو زندگی میں اختیار کیا جائے۔

مساجد کے مستقبل کے اہداف

مقررین نے کہا کہ مساجد بچوں کو ایمان سے جوڑنے، نوجوانوں کو قرآن و اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے روشناس کرانے، معاشرے میں بھائی چارے کو فروغ دینے اور حق و باطل میں تمیز کا شعور پیدا کرنے کا ذریعہ بنیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام صرف ماضی کو یاد کرنے کا موقع نہیں بلکہ مستقبل کی سمت متعین کرنے کا بھی موقع ہے۔ ایسی مساجد کی ضرورت ہے جہاں لوگ نماز ادا کرنے کے ساتھ علم حاصل کریں، اپنے کردار کو بہتر بنائیں اور معاشرے کے لیے مفید انسان بن کر نکلیں۔

آخر میں دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ مسجد حضرت مہدی علیہ السلام کو ہمیشہ آباد رکھے، اس کے بانیان، منتظمین، خدمت گزاروں اور تعاون کرنے والے تمام افراد کی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور سب کو مساجد کو ان کے حقیقی مفہوم میں آباد اور مؤثر بنانے کی توفیق عطا کرے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha